صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
135. باب فضل الجهاد - ذكر فضل المهاجر إذا جاهد في سبيل الله جل وعلا-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مہاجر کا بہت بڑا اجر ہے
حدیث نمبر: 4619
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصَّغْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، لَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزَّعِيمُ لُغَةً أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَالْحَمِيلُ لُغَةً أَهْلُ مِصْرَ، وَالْكَفِيلُ لُغَةً أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ: الزَّعِيمُ الْحَمِيلُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ وَهْبٍ أُدْرِجَ فِي الْخَبَرِ.
سیدنا فضالہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں اس شخص کا ضامن ہوں جو مجھ پر ایمان لائے، اسلام قبول کرے اور ہجرت کرے (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ اسے جنت کے گوشے میں گھر ملے اور جنت کے درمیان میں گھر ملے گا، اور جو شخص مجھ پر ایمان لاتا ہے، اسلام قبول کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، میں اس کے لیے اس بات کا ضامن ہوں کہ جنت کے ایک گوشے میں گھر ملے گا، جنت کے درمیان میں ایک گھر ملے گا اور جنت کے بالائی حصے میں گھر ملے گا، جو شخص ایسا کرتا ہے وہ بھلائی کے لیے مزید کسی طلب کو باقی نہیں رہنے دیتا اور برائی کے لیے بھاگنے کا راستہ باقی نہیں رہنے دیتا، اور پھر اس کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے مر جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «الزَّعِيمُ» اہل مدینہ کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، لفظ «الْحَمِيلُ» اہل مصر کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے اور لفظ «الْكَفِيلُ» اہل عراق کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہاں «الزَّعِيمُ» کی بجائے لفظ «الْحَمِيلُ» کا استعمال ابن وہب کے الفاظ ہوں جن کو اس روایت میں درج کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4619]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4619، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2368، 2404، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3133، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2304، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11511» «رقم طبعة با وزير 4600»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 173).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح