🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

136. باب فضل الجهاد - ذكر إيجاب الجنة لمن مات في سبيل الله حتف أنفه-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو اللہ کی راہ میں بغیر جنگ کے (حتف الأنف) مر جائے اس کے لیے جنت واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4620
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ: أَلا لا تَغْلُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاكُمْ وَأَحَقُّكُمْ بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلا امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً" . وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا مَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ: مَاتَ فُلانٌ شَهِيدًا، فَلا تَقُولُوا ذَاكَ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا مَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ: مَاتَ فُلانٌ شَهِيدًا، فَلا تَقُولُوا ذَاكَ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ" .
ابوعجفاء بن سلمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار! خواتین کے مہر میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر یہ بات دنیا میں عزت افزائی کا باعث ہوتی، یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیزگاری کا باعث ہوتی، تو اس بارے میں تم میں سب سے زیادہ حق دار سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی بھی خاتون کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا، دوسری بات یہ ہے: جو شخص جنگ کے دوران مارا جاتا ہے تم کہتے ہو وہ شہید ہے، تم لوگ یہ بات نہ کہو بلکہ تم لوگ وہ بات کہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اللہ کی راہ میں مر جائے وہ جنت میں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4620]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4620، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3349، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1114 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2246، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1887، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 595، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 291، والحميدي فى (مسنده) برقم: 23» «رقم طبعة با وزير 4601»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3204)، «الإرواء» (1927).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں