🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الإِمَامِ
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع اور سجود میں تم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو، کیونکہ میں رکوع کرنے میں تم سے جس قدر آگے ہوں گا، میرے سر اٹھانے پر تمہاری یہ تلافی ہو جائے گی (کہ تم اتنا یہ تاخیر سے سر اٹھاؤ گے) بلاشبہ میں کسی قدر بھاری ہو گیا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 619]
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکوع اور سجود میں تم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو، کیونکہ میں رکوع کرنے میں تم سے جس قدر آگے ہوں گا، میرے سر اٹھانے پر تمہاری یہ تلافی ہو جائے گی (کہ تم اتنی تاخیر سے سر اٹھاؤ گے) بلاشبہ میں کسی قدر بھاری ہو گیا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 41 (963)، (تحفة الأشراف: 11426)، وقد أخرجہ: حم(4/92، 98)، سنن الدارمی/الطھارة 72 (782) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: یہاں جسمانی طور پر بھاری پن کے اظہار سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب، نماز کے ارکان کی ادائیگی میں اعتدال و توازن ہے۔ یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہو جائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن حبان (الإحسان: 2226، 2227) وسنده حسن، وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ،" أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا".
براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ... اور وہ جھوٹے نہ تھے ... کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 620]
جناب عبداللہ بن یزید خطمی لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا: ہمیں سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور وہ جھوٹے نہیں تھے، کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع سے سر اٹھاتے تو کھڑے رہتے، جب دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے ہیں تب سجدے کے لیے جھکتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن الترمذی/الصلاة 93 (281)، سنن النسائی/الإمامة 38 (830)، مسند احمد (4/292، 300، 304)، (تحفة الأشراف: 1772) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (747) صحيح مسلم (474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ،عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ".
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 621]
جناب عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا تھا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ لیتا کہ انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، (تحفة الأشراف: 1784) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 622]
جناب محارب بن دثار روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید رحمہ اللہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: مجھ سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، جب آپ رکوع کرتے تو وہ رکوع کرتے، جب آپ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے (تو وہ سر اٹھاتے) اور پھر کھڑے رہتے حتیٰ کہ آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے (یعنی سجدہ کرتے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1773) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں