صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
376. باب الهجرة-
ہجرت کا بیان -
حدیث نمبر: 4861
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ ، أَنَّ فُدَيْكًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فُدَيْكُ، " أَقِمِ الصَّلاةَ، وَاهْجُرِ السُّوءَ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِمِ الصَّلاةَ أَمْرُ فَرْضٍ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكَلِّ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاهْجُرِ السُّوءَ فَرْضٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كُلِّهِمْ فِي كُلِّ الأَحْوَلِ لِئَلا يَرْتَكِبُوا سُوءًا بِأَنْفُسِهِمْ مِنَ الْمَعَاصِي وَبِغَيْرِهِمْ مِمَّا لا يَرْضَى اللَّهُ مِنَ الأَفْعَالِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ أَمْرُ إِبَاحَةٍ مُرَادُهُ الإِعْلامُ بِأَنَّ تَارِكَ السُّوءِ عَلَى مَا وَصَفْنَا لا ضَيْرَ عَلَيْهِ، أَيَّ مَوْضِعٍ سَكَنَ، وَإِنْ لَمْ يَقْصِدِ الْمَوَاضِعَ الشَّرِيفَةَ.
سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فدیک تم نماز ادا کرتے رہو، برائی سے لاتعلق رہو اور جہاں چاہو اپنی قوم کی سرزمین میں رہائش رکھو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم نماز قائم کرو“ یہ فرض حکم ہے جو مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتا ہے تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم برائی سے لاتعلق رہو“ یہ تمام مسلمانوں پر ہر حالت میں فرض ہے تاکہ وہ بھی کسی بھی صورت میں اپنی ذات کے حوالے سے گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور کسی دوسرے کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اور تم اپنی قوم کی سرزمین پر رہائش رکھو جہاں بھی تم چاہو“ یہ مباح قرار دینے کے طور پر حکم ہے لیکن اس سے مراد اطلاع دینا ہے برائی کو ترک کرنے والا وہ شخص جس کی صفت ہم نے بیان کی ہے اس شخص پر کوئی نقصان نہیں ہو گا چاہے وہ کسی بھی جگہ پر رہائش اختیار کرے اگرچہ وہ شرف والے مقامات پر رہائش کو اختیار نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4861]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4841»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (6300).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هشام بن عمر صدوق وقد توبع ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين غير صالح بن بشير بن فديك فلم يوثقه غير المؤلف ولم يرو عنه غير الزهري