صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
375. باب الفداء وفك الأسرى - ذكر ما يستحب للمرء أن يفك أسارى المسلمين من أيدي المشركين إذا وجد إليه سبيلا-
فداء اور اسرا کی رہائی کا بیان - اگر راستہ ملے تو مسلمانوں کے اسیران کو مشرکوں کے قبضے سے چھڑانے کی کوشش کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4860
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ:" ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ بِشَنِّ الْغَارَةِ، فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقِ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَاءَ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ آدَمَ، مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ثُمَّ بِتُّ وَلَمِ اكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَنِي، ثُمَّ لَقِيَنِي مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَشَفْتُ لَهُ ثَوْبًا، فَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَكَّهُمْ بِهَا" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔ ہم نے فزارہ قبیلے کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا تھی جب ہم پانی کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے وہاں پڑاؤ کر لیا جب ہم نے صبح کی نماز ادا کر لی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یک بارگی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے پانی کے آس پاس موجود بہت سارے لوگوں کو قتل کر دیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے لوگوں کے پیچھے دیکھا کہ کچھ بچے اور کچھ خواتین جا رہے ہیں میں ان کے پیچھے گیا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ پہنچ جائیں تو میں نے ایک تیر مارا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا کر گرا تو وہ لوگ رک گئے میں انہیں پکڑ کر انہیں ہانک کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ یہاں تک کہ میں پانی پاس آ گیا ان میں فزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عربوں کی خوب صورت ترین عورت تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی مجھے انعام کے طور پر دے دی میں نے اس کا پردہ نہیں ہٹایا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آ گیا پھر میں نے رات بسر کی اور اس کا پردہ نہیں ہٹایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت مجھے تحفے کے طور پر دے دو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ بہت اچھی لگی ہے میں نے تو ابھی اس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں کہا:۔ پھر اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے بازار میں ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمہ تم وہ عورت مجھے ہبہ کر دو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو اس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا بہرحال وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو پیغام بھیجا۔ ان کے ہاں کچھ مسلمان قیدی تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کے فدیے کے طور پر وہ عورت ادا کر دی اور ان لوگوں کو اس عورت کے عوض میں چھڑوا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4860]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4840»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2416): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم