صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ذكر البيان بأن تعريف أبي بن كعب الصرة التي التقطها الأحوال الثلاثة إنما كان ذلك بأمر المصطفى-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جو تھیلی تین برس تک متعارف کرائی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تھا۔
حدیث نمبر: 4892
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَيْبِ، فَقَالا: دَعْهُ، فَقُلْتُ لا أَدَعُهُ، فَقَدِمْتُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ، أَحْسَنْتَ، الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْد ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِئَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" اعْلَمْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا، فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاسْتَمْتِعْ بِهَا، وَشَأْنَكَ بِهَا أَضْمَرَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةَ رَدَّ اللُّقَطَةِ عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ بَعْدَ الأَحْوَالِ الثَّلاثَةِ.
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما کے ہمراہ روانہ ہوا۔ عذیب کے مقام پر ایک کوڑا ملا، میں نے وہ اٹھا لیا، ان دونوں نے کہا: تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا لیں، پھر میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مجھے ایک سو دینار پڑے ہوئے ملے تھے۔ میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک ان کا اعلان کیا، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کا اعلان کرو۔“ میں نے پھر ایک سال تک ان کا اعلان کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کا اعلان کرو۔“ میں ایک سال تک ان کا اعلان کرتا رہا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی تعداد، اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی نشانی یاد رکھنا، اگر کوئی شخص بعد میں آ کر تمہیں اس کی تعداد، تھیلی اور تھیلی کی ڈوری کی نشانی کے بارے میں بتا دے تو تم (اتنی ہی رقم) اسے ادا کر دینا، ورنہ تم اس کے ذریعے نفع حاصل کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اس کے ذریعے نفع حاصل کرو“ اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر تین سال گزرنے کے بعد بھی اس کا مالک اس کے پاس آ جاتا ہے تو وہ ملنے والی چیز اسے لوٹائی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 4892]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2426، 2437، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1723، وابن الجارود فى "المنتقى"، 725، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4891، 4892، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5789، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21556، 21557» «رقم طبعة با وزير 4872»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null