صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر البيان بأن العبد المأذون له في التجارة إذا بيع وله مال وعليه دين يكون ماله لبائعه ودينه عليه-
بیع کا بیان - بیان کہ اگر تجارت کی اجازت یافتہ غلام بیچا جائے اور اس کے پاس مال اور قرض ہو تو مال بیچنے والے کا اور قرض غلام پر رہے گا۔
حدیث نمبر: 4924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافِي الْعَابِدُ بِصَيْدَا، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَأْبِيرِهِ، فَلَهُ ثَمَرُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی غلام فروخت کرتا ہے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس غلام کا مال اس شخص کو ملے گا اور اگر اس غلام نے کچھ قرض لیا ہو تو اس کی ادائیگی اس شخص پر ہوگی البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا) اور جو شخص کھجور کے کسی درخت کی پیوندکاری کر دیتا ہے اور پیوندکاری کرنے کے بعد اسے فروخت کرتا ہے تو اس درخت کا پھل اسے ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4903»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1314)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن