🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

111. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الأشياء المعلومة بأجناسها إلا مثلا بمثل-
سود کا بیان - معلوم اجناس کو اپنی جنس کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ: كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ، فَقَالَ عُبَادَةُ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" .
ابو اشعث بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی، تنخواہ ملنے تک خرید و فروخت کر لیتے تھے، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے، چاندی کے عوض میں چاندی، گندم کے عوض میں گندم، جو کے عوض میں جو، کھجور کے عوض میں کھجور اور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے، ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو؛ جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو، وہ سود کا کام کرے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1587، وابن الجارود فى "المنتقى"، 707، 709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4574، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1240، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 18، 2254، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10587، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23123، والحميدي فى (مسنده) برقم: 394» «رقم طبعة با وزير 4994»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں