صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
119. باب الربا - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن الدرهم بالدرهمين جائز نقدا وإنما حرم ذلك نسيئة-
سود کا بیان - ایک ایسی خبر کا ذکر جس نے بعض اہلِ علم کو یہ وہم دیا کہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے نقد بیچنا جائز ہے حالانکہ نسیئہ (ادھار) کی صورت میں ہی اس کی حرمت آئی ہے
حدیث نمبر: 5023
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: هَلْ تَتَّهِمُ أُسَامَةَ ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لا، قَالَ: فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا رِبَا إِلا فِي النَّسِيئَةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الأَشْيَاءَ إِذَا بِيعَتْ بِجِنْسِهَا مِنَ السِّتَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْخَبَرِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ يَكُونُ رِبًا، وَإِذَا بِيعَتْ بِغَيْرِ أَجْنَاسِهَا وَبَيْنَهَا فَضْلٌ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ نَسِيئَةً كَانَ رِبًا".
ابنِ ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، انہوں نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: کیا آپ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پر الزام عائد کرتے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی نہیں، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ”سود صرف اُدھار میں ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ حدیث میں مذکور چھ چیزیں جب ان کی جنس کے عوض میں فروخت کی جائیں اور ان کے درمیان اضافی ادائیگی ہو، تو یہ سود ہوگا، لیکن جب ان کی جنس کے علاوہ کے عوض میں فروخت کی جائے اور پھر جو چیز اضافی ہو تو یہ جائز ہوگی جبکہ وہ لین دین دست بدست ہو، لیکن اگر وہ ادھار کا لین دین ہو، تو پھر یہ سود ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5023]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2178، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1596، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5023، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4594، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2257، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10606، 10607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22157، والحميدي فى (مسنده) برقم: 555» «رقم طبعة با وزير 5001»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1338)، «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح