صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
120. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الصاع من التمر بالصاعين منه-
سود کا بیان - ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور کے بدلے بیچنے سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 5024
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرِ الْجَنِيبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعِ تَمْرٍ، وَلا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ، وَلا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم عمدہ کھجوروں کے ایک صاع کے عوض میں عام سی کھجوریں دو صاع فروخت کر دیا کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھجور کے دو صاع کھجور کے ایک صاع کے عوض میں (فروخت) نہیں کئے جا سکتے اور گندم کے دو صاع، گندم کے ایک صاع کے عوض میں (فروخت) نہیں کئے جا سکتے اور دو درہم ایک درہم کے عوض میں (فروخت) نہیں کئے جا سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5024]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5002»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «أحاديث البيوع»، «الصحيحة» (3574).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح