🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. ذكر الزجر عن دخول المرء في قضاء المسلمين إذا علم تعذر سلوك الحق فيه-
- یہ بیان کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کے فیصلے میں حق پر چلنا ممکن نہیں تو اس کے فیصلے میں شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5056
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ لابْنِ عُمَرَ : اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا، قَالَ: أَوَتُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: اذْهَبْ، فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: تُعْفِيَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ، قَالَ: لا تَعْجَلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ مَعَاذًا"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا، قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟ قَالَ: لأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْجَهْلِ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْجَوْرِ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا يَقْضِي بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ، سَأَلَ التَّفَلُّتَ كَفَافًا" ، فَمَا أَرْجُو مِنْهُ بَعْدَ ذَا، قَالَ أَبُو حَاتِمِ: ابْنُ وَهْبٍ وهَذَا، هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ الأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ مِنَ الْمَدِينَةِ رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ.
عبداللہ بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: تم جاؤ تم قاضی ہو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: اے امیر المؤمنین کیا آپ مجھے اس سے معاف نہیں رکھیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو انہوں نے گزارش کی: اے امیر المؤمنین آپ مجھے اس سے معافی نہیں دیتے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں تاکید کر رہا ہوں کہ تم جاؤ اور فیصلہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: آپ جلدی نہ کیجئے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اللہ کی پناہ لیتا ہے وہ ایک ایسی ذات کی پناہ لیتا ہے جس کی پناہ لی جاتی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تم ایسا کیوں نہیں کرتے جبکہ تمہارے والد فیصلے دیا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص قاضی ہو اور علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو کر ظلم کے مطابق فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو اور عالم بھی ہو اور حق کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) انصاف کے ساتھ فیصلہ دے وہ بھی (قیامت کے دن) یہ آرزو کرے گا کہ اسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:) تو اب اس کے بعد میں کیا امید رکھ سکتا ہوں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن وہب نامی راوی عبداللہ بن وہب بن اسود قریشی ہے جس کا تعلق مدینہ منورہ سے ہے۔ ابن شہاب زہری نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ القَضَاءِ/حدیث: 5056]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5034»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 131 و 132)، «المشكاة» (4743)، «الضعيفة» (6864).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں