🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط-
- یہ خبر کہ اللہ جل وعلا نے آیت «وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ» کیوں نازل فرمائی، اس کا سبب بیان کیا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5057
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، وَكَانَتِ النَّضِيرُ أشرف من قريظة، قَالَ: وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وَدَى مِئَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلُهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ، فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42، وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک قریظہ قبیلہ تھا اور ایک نضیر قبیلہ تھا۔ نضیر قبیلہ قریظہ قبیلے سے زیادہ معزز سمجھا جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا جب کوئی شخص بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دیتا، تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا اور جب بنو نضیر سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ کھجور کے ایک سو وسق دیت ادا کر دیتا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تو بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ لوگوں نے کہا: تم لوگ اسے ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم بھی اسے قتل کریں۔ ان لوگوں نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کریں گے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: اگر تم فیصلہ دیتے ہو تو ان کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ دو۔ یہاں انصاف سے مراد یہ ہے: جان کا بدلہ جان ہو پھر یہ آیت نازل ہوئی: کیا وہ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ القَضَاءِ/حدیث: 5057]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5035»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - نظر التعليق. * [سِمَاكٍ] قال الشيخ: هو ابنُ حَربٍ، وحديثه عن عِكرمة مُضطربٌ. لكنَّه قَد تُوبِعَ؛ فرواهُ ابنُ إِسحاقَ: أخبرني داود بن الحصين، عن عكرمة ... نحوه. أخرجه النسائي (2/ 240)، وأبو داود (3591)، وغيرُهما. وهذا سند حسن. وله في المسند (1/ 246) طريق آخر عن ابن عبَّاسٍ ... به أتم منه، وهو حسن - أيضا -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں