🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. ذكر الإخبار عن إيجاب غضب الله جل وعلا لمن أخذ مال أخيه المسلم باليمين الفاجرة-
- اس خبر کا بیان کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر اپنے مسلمان بھائی کا مال لے، اس پر اللہ جل وعلا کا غضب واجب ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5084
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَنَزَلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77" الآيَةَ ، فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ وَفِي صَاحِبِي فِي بِئْرٍ ادَّعَيْتُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ مِنَّا بَيِّنَةٌ فَحَلَفَ عَلَيْهَا، فَذَكَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، عِنْدَ ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور وہ اس میں جھوٹا ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کے ذریعے وہ مال ہتھیا لے تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔ تو اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی: بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد کے عوض میں خریدتے ہیں۔ اسی دوران سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے وہ لوگ مسجد میں اس حدیث کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا ابن ام عبد کیا بیان کر رہے ہیں۔ لوگوں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا: ہے یہ آیت میرے اور میرے مقابل فریق کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ہمارا ایک کنوئیں کے بارے میں اختلاف تھا جس کا میں دعویدار تھا ہم میں سے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، تو اس شخص نے اس بارے میں قسم اٹھا لی تھی، تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الدَّعْوَى/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5061»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2638)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں