🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. ذكر خبر ثالث يصرح بأن الإيثار بين الأولاد في النحل حيف غير جائز استعماله-
- تیسری خبر کا بیان جو واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار ظلم ہے اور جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5104
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: طَلَبَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ إِلَى بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنْ يَنْحِلَنِيَ نَحْلا مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّهُ أَبَى عَلَيْهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ بَعْدَ حَوْلٍ أَوْ حَوْلَيْنِ أَنْ يَنْحَلَنِيهِ، فَقَالَ لَهَا: الَّذِي سَأَلْتِ لابْنِي كُنْتُ مَنَعْتُكِ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أَنْحَلَهُ إِيَّاهُ، قَالَتْ: لا وَاللَّهِ، لا أَرْضَى حَتَّى تَأْخُذَ بِيَدِهِ فَتَنْطَلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُشْهِدَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مَعَهُ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ آتَيْتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي آتَيْتَ هَذَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا، هَذَا جَوْرٌ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلادِكُمْ فِي النَّحْلِ كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ، وَاللُّطْفِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْفِعْلِ الْمَأْمُورِ بِهِ لَوْ فَعَلَهُ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الأَمْرِ بِضِدِّهِ، كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ: اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (میری والدہ) عمرہ بنت رواحہ نے (میرے والد) سیدنا بشیر بن سعد سے یہ کہا: کہ وہ اپنے مال میں سے مجھے (یعنی سیدنا نعمان بن بشیر کو) کوئی عطیہ دیں، لیکن انہوں نے اس خاتون کی بات تسلیم نہیں کی۔ ایک یا دو سال گزرنے کے بعد انہیں یہ مناسب لگا تو انہوں نے مجھے ایک عطیہ دے دیا۔ انہوں نے اس خاتون سے کہا: تم نے جو میرے بیٹے کے بارے میں درخواست کی تھی اسے میں نے پورا نہیں کیا تھا۔ اب مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے عطیہ دے دوں۔ اس خاتون نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا گواہ نہیں بناتے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: جس طرح تم نے اسے دیا ہے۔ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو بھی دیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اس بات کا گواہ نہیں بنتا یہ زیادتی ہے، تم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو تم لوگ اپنی اولاد کے درمیان عطیات کے حوالے سے انصاف سے کام لو جس طرح تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی اور بھلائی کے حوالے سے تمہارے ساتھ انصاف سے کام لے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ اس کے ذریعے اس بات کی اطلاع دینا مراد ہے اگر وہ یہ فعل کر لیتے ہیں، تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی ممانعت اس کے متضاد کا حکم دینے کے الفاظ کے ذریعے کی ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم (ولاء) کی شرط ان کے لئے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الهِبَةِ/حدیث: 5104]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5082»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3098): م نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں