صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
14. ذكر البيان بأن المرء وإن كان خيرا فاضلا إذا أهدي إليه شيء وإن كان قليلا عليه قبوله والإفضال منه على غيره دون الازدراء بالشيء اليسير والتأمل للشيء الكثير-
- اس وضاحت کا بیان کہ اگر کسی نیک اور فاضل شخص کو کوئی معمولی سا تحفہ بھی پیش کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے قبول کرے، اسے معمولی نہ سمجھے اور دوسروں پر احسان کرے۔
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" لا، وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ"، فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھے۔ آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ آپ نے وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ انہیں اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کا نشان نظر نہیں آیا تھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں لیکن میں نے اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جسے آپ نے ناپسند کیا ہے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الهِبَةِ/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2094، 5110، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5992، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1807، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5138، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21375» «رقم طبعة با وزير 5088»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2511): م - جابر بن سمرة، عن أبي أيوب: الأنصاري.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم