صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. باب الرجوع في الهبة - ذكر البيان بأن هذا الفرس قد ضاع عند الذي كان في يده فأراد عمر أن يشتريه بعد ذلك-
ہبہ واپس لینے کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ ایک گھوڑا جب اس کے مالک کے پاس سے نکل گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں اسے خریدنے کا ارادہ کیا۔
حدیث نمبر: 5125
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لا تَبْتَعْهُ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا صدقے کے طور پر دیا جس شخص کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے ضائع کر دیا تو میں نے اس سے اس گھوڑے کو خریدنے کا ارادہ کیا میرا یہ اندازہ تھا کہ میں اسے کم قیمت پر خرید لوں گا میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ خریدو! خواہ وہ تمھیں ایک درہم کے عوض میں دے رہا ہو کیونکہ اپنے صدقے کو واپس لینے والا شخص ایسے کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو دوبارہ کھا لیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الهِبَةِ/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5103»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (849): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين