الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن إجارة الأرض بالدراهم غير جائزة-
- یہ خبر جو بعض ناسمجھ لوگوں کو یہ وہم دیتی ہے کہ زمین کو دراہم (نقدی) کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5148
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ، لَفْظَةُ زَجْرٍ عَنْ فِعْلٍ قُصِدَ بِهَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَ بِهِمُ الضِّيقُ فِي الْعَيْشِ وَالْمِنْحَةُ كَانَتْ أَوْقَعَ عِنْدَهُمْ لِلأَرْضِ مِنْ إِكْرَائِهَا، فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى جَوَازِ كَرْيِ الأَرْضِ إِلا الْجِنْسَ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر سکتا، تو وہ اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ طور دیدے وہ اس سے اس کا کرایہ نہ لے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے یہاں پر لفظی طور پر فعل سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا ہے اور رہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی، تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے: زمین کا کرایہ لینا جائز ہے ماسوائے اس جنس کے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5148]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے یہاں پر لفظی طور پر فعل سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا ہے اور رہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی، تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے: زمین کا کرایہ لینا جائز ہے ماسوائے اس جنس کے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5126»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (5/ 19).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري