صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر الزجر عن احتلاب المرء ماشية أخيه المسلم بغير إذنه-
- یہ تنبیہ کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جانوروں کا دودھ بغیر اجازت دوہے۔
حدیث نمبر: 5171
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُحْتَلَبَ مَوَاشِي النَّاسِ إِلا بِإِذْنِ أَرْبَابِهَا، وَقَالَ: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُهَا، فَيُنْتَثَلَ مَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ هُوَ طَعَامُ أَحَدِهِمْ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا حَلَبَ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے لوگوں کے جانوروں کا دودھ ان کے مالکان کی اجازت کے بغیر دوہ لیا جائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے اس کے گودام میں کوئی آئے اس کا دروازہ توڑے اور اس میں سے اناج نکال لے۔ ان جانوروں کا تھن لوگوں کی خوراک ہیں۔ میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں کہ اس نے کسی دوسرے جانور کا دودھ اس شخص کی اجازت کے بغیر دوہ لیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الغَصْبِ/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5149»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2522): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين