صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر البيان بأن قول رافع بن خديج بشيء مضمون أراد به الذهب والفضة-
- یہ بیان کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے قول "بشیء مضمون" سے مراد سونا اور چاندی ہے۔
حدیث نمبر: 5197
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الأَرْضُ تُكْرَى بِالْمَاذِيَانَاتِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ يُسْتَثْنَى بِهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ" ، قَالَ رَافِعٌ: فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ، فَلا بَأْسَ بِهِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے زمین پیداوار کے عوض میں اور کچھ اناج کے عوض میں بھی جس کا استثنیٰ کر لیا گیا ہو کرائے پر دی جاتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جہاں تک سونے یا چاندی کے عوض میں (زمین کو کرائے پر دینے کا تعلق ہے) تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5197]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5174»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح