صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. ذكر خبر ثان يصرح بأن الزجر عن المزارعة وكراء الأرض إنما زجر إذا كان ذلك على شرط غير معلوم-
- یہ دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ مزارعت یا زمین کے کرایے سے ممانعت صرف اس صورت میں ہے جب شرط غیر واضح ہو۔
حدیث نمبر: 5198
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ وَافْتَقَرَ إِلَيْهَا غَيْرُهُ زَارَعَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَكَانَ يَشْتَرِطُ ثَلاثَ جَدَاوِلَ، وَمَا سَقَى الرَّبِيعِ، وَكُنَّا نُعَالِجُهَا عِلاجًا شَدِيدًا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِيدِ وَبِأَشْيَاءَ، وَكُنَّا نُصِيبُ مِنْهَا، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَزْرَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ" .
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم میں سے کسی ایک شخص کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی دوسرے شخص کو وہاں کھیتی باڑی کی ضرورت ہوتی تو وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں معاہدہ کر لیتا تھا اور وہ تین نالیوں کے (آس پاس کی جگہ) کی شرط عائد کرتا تھا یا بڑی نالی کے آس پاس کی جگہ کی شرط عائد کرتا تھا (یعنی وہاں کی پیداوار میری ہو گی)، ہم لوگ گائے لوہے اور دیگر اشیاء کے ذریعے بڑی محنت سے وہاں کام کرتے تھے پھر ہمیں اس میں سے کچھ ملتا تھا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے منع کیا ہے جو تمہارے لئے حقل کے حوالے سے فائدہ مند تھی حقل سے مراد ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں (زمین ٹھیکے پر دینا ہے) تو جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لئے) دیدے یا اس میں خود کھیتی باڑی کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5175»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 300).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين