🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. ذكر خبر ثان يصرح بأن الزجر عن المزارعة وكراء الأرض إنما زجر إذا كان ذلك على شرط غير معلوم-
- یہ دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ مزارعت یا زمین کے کرایے سے ممانعت صرف اس صورت میں ہے جب شرط غیر واضح ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5198
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ وَافْتَقَرَ إِلَيْهَا غَيْرُهُ زَارَعَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَكَانَ يَشْتَرِطُ ثَلاثَ جَدَاوِلَ، وَمَا سَقَى الرَّبِيعِ، وَكُنَّا نُعَالِجُهَا عِلاجًا شَدِيدًا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِيدِ وَبِأَشْيَاءَ، وَكُنَّا نُصِيبُ مِنْهَا، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَزْرَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ" .
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم میں سے کسی ایک شخص کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی دوسرے شخص کو وہاں کھیتی باڑی کی ضرورت ہوتی تو وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں معاہدہ کر لیتا تھا اور وہ تین نالیوں کے (آس پاس کی جگہ) کی شرط عائد کرتا تھا یا بڑی نالی کے آس پاس کی جگہ کی شرط عائد کرتا تھا (یعنی وہاں کی پیداوار میری ہوگی)، ہم لوگ گائے، لوہے اور دیگر اشیاء کے ذریعے بڑی محنت سے وہاں کام کرتے تھے پھر ہمیں اس میں سے کچھ ملتا تھا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے منع کیا ہے جو تمہارے لیے حقل کے حوالے سے فائدہ مند تھی،“ «الْحَقْلُ» (حقل) سے مراد ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں (زمین ٹھیکے پر دینا ہے)، ”تو جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لیے) دے دے یا اس میں خود کھیتی باڑی کرے۔“ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2191، 2383، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1540، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5002، 5198، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3363، 3400، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2267، 2449، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10767، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16057» «رقم طبعة با وزير 5175»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (5/ 300). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں