صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. باب آداب الأكل - ذكر ما يحمد العبد ربه جل وعلا بعد غسله يده من الغمر من طعام أكله-
کھانے کے آداب کا بیان - کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بعد حمد کرنا جو کھانے سے حاصل ہوا
حدیث نمبر: 5219
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَعَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا طَعِمَ، وَغَسَلَ يَدَهُ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَلا يُطْعَمُ، مَنَّ عَلَيْنَا، فَهَدَانَا، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكُلُّ بَلاءٍ حَسَنٍ أَبْلانَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَى مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَى مِنَ الضَّلالَةِ، وَبَصَّرَ مِنَ الْعَمَى، وَفَضَّلَ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی چلا گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا اور اپنے ہاتھ دھو لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ، مَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكُلَّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَى مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَى مِنَ الضَّلَالَةِ، وَبَصَّرَ مِنَ الْعَمَى، وَفَضَّلَ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا، اس نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں ہدایت نصیب کی، اس نے ہمیں کھانے کے لیے دیا، ہمیں پلایا اور ہمیں اچھی طرح کی صورت حال میں مبتلا کیا۔ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے کھانے میں سے کھلایا اور مشروب میں سے پلایا اور بے لباس جسم کو پہنایا اور گمراہی سے ہدایت نصیب کی، نابینا کو بصارت عطا کی اور اس نے اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر ہمیں فضیلت عطا کی، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5219، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2010، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10060» «رقم طبعة با وزير 5196»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null