🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب آداب الأكل - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر لم يسمعه خالد بن معدان عن أبي أمامة-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ خبر مدحض کہ خالد بن معدان نے ابو امامة سے نہیں سنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5218
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: شَهِدْنَا طَعَامًا فِي مَنْزِلِ عَبْدِ الأَعْلَى، وَمَعَنَا أَبُو أُمَامَةَ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ خَطِيبًا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا، مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مُوَدَّعٍ، وَلا مُسْتَغْنًى عَنْهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبِ، وَبَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالاعلیٰ کے گھر کھانے پر مدعو تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، کھانے سے فارغ ہونے پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں خطبہ دینا شروع کر دوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، ایسی حمد جو زیادہ ہو، پاکیزہ ہو، اس میں برکت موجود ہو، اسے وداع نہ کیا گیا ہو اور اس سے بے نیازی نہ اختیار کی گئی ہو۔۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت معاویہ بن صالح نے عامر بن جشیب کے حوالے سے اور بحیر بن سعد نے خالد بن معدان کے حوالے سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5458، 5459، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5217، 5218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1941، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3849، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3456، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3284، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14787، 14788، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22598» «رقم طبعة با وزير 5195»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں