صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
64. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر البيان بأن القوم كانوا محتاجين إلى أكل لحوم الحمر الأهلية لما نهاهم المصطفى صلى الله عليه وسلم عن أكلها-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ لوگ ضرورت میں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے پر مجبور تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا
حدیث نمبر: 5275
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، حالانکہ لوگوں کو اس کی (شدید ترین) ضرورت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5275]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5251»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 5276
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيْ عَامِرٌ، لَوْ مَتَّعْتَنَا مِنْ هَنَاتِكَ، فَنَزَلَ يَحْدُو لَهُمْ، فَذَكَرَ اللَّهَ، وَذَكَرَ شِعْرًا لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟ قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الأَكْوَعِ، قَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِهِ، فَلَمَّا أَصَابُوا الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ وَأُصِيبَ عَامِرٌ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذِهِ النَّارُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ؟ قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ: أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ فَقَالَ: فَذَاكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا" أَمْرُ حَتْمٍ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَكَسِّرُوهَا": أَمْرُ تَشْدِيدٍ وَتَغْلِيظٍ دُونَ الْحُكْمِ، أَلا تَرَى الرَّجُلَ مِمَّنْ أَمَرَهُمْ بِكَسْرِهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ قَالَ:" فَذَاكَ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے عامر! اگر آپ اپنے نغمے کے ذریعے ہمیں لطف اٹھانے کا موقع دیں (تو یہ مناسب ہو گا) تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ لوگوں کو حدی سنانے کے لئے سواری سے نیچے اُتر آئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا پھر ایک شعر ذکر کیا جو مجھے یاد نہیں رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا جانور کو لے کر چلنے والا شخص کون ہے لوگوں نے بتایا یہ عامر بن اکوع ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر آپ ہمیں اس سے (لطف اندوز ہونے کا موقع دیں تو عنایت ہو گی)۔
جب ان لوگوں نے دشمنوں پر حملہ کیا اور ان کے ساتھ لڑائی کی تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے جب شام کا وقت ہوا تو انہوں نے ڈھیر ساری آگ جلا لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ آگ کسی وجہ سے ہے اور یہ کیا چیز پکائی جا رہی ہے۔ لوگوں نے بتایا گدھے کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہنڈیوں میں موجود چیزوں کو انڈیل دو اور انہیں توڑ دو ایک صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ ان میں موجود چیز کو انڈیل کر ان کو دھولیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:“”اس میں جو کچھ موجود ہے اسے بہا دو“ یہ ایک لازمی حکم ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:“”تم اسے توڑ دو“ یہ شدت اور سختی ظاہر کرنے کا حکم ہے۔ لازمی حکم نہیں ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں کی کہ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیا توڑنے کا حکم دیا تھا۔ اس شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا ہم اس موجود چیز کو بہا کر انہیں دھو نہ لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5276]
جب ان لوگوں نے دشمنوں پر حملہ کیا اور ان کے ساتھ لڑائی کی تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے جب شام کا وقت ہوا تو انہوں نے ڈھیر ساری آگ جلا لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ آگ کسی وجہ سے ہے اور یہ کیا چیز پکائی جا رہی ہے۔ لوگوں نے بتایا گدھے کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہنڈیوں میں موجود چیزوں کو انڈیل دو اور انہیں توڑ دو ایک صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ ان میں موجود چیز کو انڈیل کر ان کو دھولیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:“”اس میں جو کچھ موجود ہے اسے بہا دو“ یہ ایک لازمی حکم ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:“”تم اسے توڑ دو“ یہ شدت اور سختی ظاہر کرنے کا حکم ہے۔ لازمی حکم نہیں ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں کی کہ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیا توڑنے کا حکم دیا تھا۔ اس شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا ہم اس موجود چیز کو بہا کر انہیں دھو نہ لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5276]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5252»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري