صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
85. باب الضيافة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم حين جاء دار بسر كان راكبا بغلته-
مہمان نوازی کا بیان - یہ بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بسر کے گھر آئے تو اپنی بغل پر سوار تھے
حدیث نمبر: 5298
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا، فَقَالَ: انْزِلْ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلَ عِنْدَهُ، قَالَ: فَجَاءَهُمْ بِحَيْسٍ، فَأَكَلُوهُ، ثُمَّ جَاءَهُمْ بِتَمْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَيَقُولُ بِالنَّوَى هَكَذَا، وَيُقَلِّبْهُ، وَضَمَّ شُعْبَةُ أُصْبُعَيْهِ، ثُمَّ جَاءُوهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفید خچر پر سوار تھے۔ میرے والد نے اس کی لگام پکڑ لی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے ہاں قیام کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ٹھہر گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حیس لے کر آئے، ان لوگوں نے اسے کھا لیا، پھر وہ کھجوریں لے کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں کھانے لگے اور اس کی گٹھلیوں کو یوں الٹنے لگے۔ یہاں شعبہ نامی راوی نے دو انگلیوں کو ملا کر یہ دکھایا، پھر ان کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں طرف موجود شخص کی طرف اسے بڑھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت رکھ دے، ان کی مغفرت کر دے اور ان پر رحم کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2042، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5297، 5298، 5299،، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7177، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3729، 3837، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3576، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3334، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14713، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17949» «رقم طبعة با وزير 5274»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم