🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. باب الضيافة - ذكر الخبر المفسر للألفاظ المجملة التي تقدم ذكرنا لها-
مہمان نوازی کا بیان - یہ خبر جو پہلے بیان کی گئی مجمل الفاظ کی وضاحت کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5306
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا، فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا، فَلْيَطْعَمْ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ"، يُرِيدُ بِهِ: فَلْيَدْعُ ؛ لأَنَّ الصَّلاةَ دُعَاءٌ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِصَفِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ سورة التوبة آية 103 ْ أَرَادَ بِهِ: وَادْعُ لَهُمْ"، فَأَمَّا الْمُجْمَلُ مِنَ الأَخْبَارِ، فَهُوَ الْخَبَرُ الَّذِي يَرْوِيهِ صَحَابِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَفْظَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ، يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا عَلَى عُمُومِ الْخِطَابِ، وَالْمُفَسِّرُ: هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ آخَرَ ذَلِكَ الْخَبَرَ بِعَيْنِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِزِيَادَةِ بَيَانٍ لَيْسَ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ الأَوَّلِ، ذَلِكَ الْبَيَانُ حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي هِيَ مُسْتَقِلَّةٌ بِنَفْسِهَا، إِلا بِاسْتِعْمَالِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ الَّتِي هِيَ الْبَيَانُ لِتِلْكَ اللَّفْظَةِ الَّتِي لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ، وَقَدْ ذَكَرْنَا كُلَّ خَبَرٍ مُجْمَلٍ وَمُفَسِّرٍ لَهُ فِي السُّنَنِ فِي كِتَابِ: فُصُولِ السُّنَنِ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنِ الاسْتِقْصَاءِ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ؛ لأَنَّ فِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ غُنْيَةً لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ وَتَدَبَّرَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھا لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ دعا کر دے کیونکہ «الصَّلَاةُ» کا مطلب دعا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ﴾ [سورة التوبة: 103] تم ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان کا تزکیہ اس کے ذریعے کر دو اور ان کے لیے دعائے رحمت کرو، بے شک تمہاری دعا ان کے لیے سکون کا باعث ہے۔ تو اس کے ذریعے مراد یہی ہے کہ تم ان کے لیے دعا کر دو۔ جہاں تک مجمل روایت کا تعلق ہے تو یہ وہ روایت ہے جو ایک صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مستقل لفظ کے طور پر نقل کی ہے جس میں روایت کے الفاظ عمومی ہیں، البتہ وضاحتی روایت وہ ہے جو دوسرے صحابی نے انہی الفاظ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافی بیان کے ہمراہ نقل کی ہے جو پہلے والے صحابی کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے، یہاں تک کہ اس مجمل الفاظ والی روایت پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک ان اضافی الفاظ والی روایت پر عمل نہ کیا جائے جو ان الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جو اس صحابی کی روایت میں نہیں ہے؛ ہم نے سنن میں مجمل اور مفصل دونوں روایتیں کتاب فصول السنن میں نقل کر دی ہیں۔ اس لیے اس نوعیت کی تمام روایات کو اس کتاب میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے جو اس شخص کے لیے کافی ہو گی جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور جو غور و فکر کرے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1431، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5306، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3257، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2460، والترمذي فى (جامعه) برقم: 780، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14645، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7864» «رقم طبعة با وزير 5282»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2123): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں