صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
94. باب الضيافة - ذكر استحباب اجتماع الإخوان للطعام في يوم بعينه من الجمعة-
مہمان نوازی کا بیان - یہ مستحب کہ بھائی جمعہ کے دن ایک مخصوص دن پر کھانے کے لیے جمع ہوں
حدیث نمبر: 5307
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كُنَّا " نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ تَكُونُ الْقَائِلَةُ، وَكَانَتْ فِينَا امْرَأَةٌ، فَكَانَتْ تَجْعَلُ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا سِلْقًا، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ، فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ فَتَطْحَنُهَا فَيَكُونُ ذَلِكَ السِّلْقُ عُرَاقَةً، قَالَ سَهْلٌ: فَكُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَيْهَا مِنْ صَلاةِ الْجُمُعَةِ، فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا، فَنَلْعَقُهُ، قَالَ: فَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے، اس کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ایک خاتون تھی، وہ اپنے کھیت میں چقندر بویا کرتی تھی، جب جمعہ کا دن آتا تھا تو وہ چقندر کی جڑیں اتار لیتی تھی اور اسے ہنڈیا میں پکاتی تھی۔ اس میں مٹھی بھر جو ڈال کر انہیں بھون لیتی تھی، تو اس کا سالن بن جایا کرتا تھا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اس خاتون کے پاس واپس جاتے تھے، اسے سلام کرتے تھے تو وہ وہ کھانا ہمارے آگے کر دیتی تھی جسے ہم کھایا کرتے تھے۔ اس کے اس کھانے کی وجہ سے ہم جمعہ کا دن (جلدی آنے کے) آرزو مند ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 5307]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 938، 939، 941، 2349، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 859، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1875، 1876، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5307، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11791، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1086، والترمذي فى (جامعه) برقم: 525، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1099، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6030، 13667، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1625، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15801» «رقم طبعة با وزير 5283»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (997).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري