🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

129. باب فِي تَخْفِيفِ الصَّلاَةِ
باب: نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَسَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، قَالَ مَرَّةً: ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ، وَقَالَ مَرَّةً: الْعِشَاءَ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، فَقَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، اقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى". فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو، فَقَالَ: أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے - ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورۃ پڑھا کرو۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): تم «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 790]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر واپس آ کر ہماری امامت کراتے تھے، عمرو بن دینار نے ایک بار یوں کہا کہ پھر واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے۔ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر سے نماز پڑھائی اور ایک بار روایت کیا کہ عشاء کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر سے پڑھائی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ تو قوم میں سے ایک آدمی علیحدہ ہو گیا اور اس نے الگ ہی اپنی نماز پڑھی، تو اسے کہا گیا: کیا تو منافق ہو گیا ہے اے فلاں؟ اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا ہوں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر واپس جا کر ہماری امامت کراتے ہیں، اے اللہ کے رسول! اور ہم آب پاشی کی اونٹنیوں والے ہیں، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، (گزشتہ رات) وہ آئے اور ہماری امامت کرائی اور سورۃ البقرہ پڑھنے لگے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ وہ پڑھو اور وہ پڑھو۔ ابوزبیر نے نام لے کر کہا کہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] پڑھو اور ہم نے عمرو سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے سورتوں کے نام ذکر کیے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (600)، (تحفة الأشراف: 2533) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (700) صحيح مسلم (465)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَزْمِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ" لَا تَكُنْ فَتَّانًا، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ".
حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 791]
جناب حزم بن ابی کعب کا بیان ہے کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور وہ قوم کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اسی مذکورہ خبر میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! فتنے میں ڈالنے والے نہ بنو، بےشک تمہارے پیچھے بڑی عمر والے، کمزور، کام کاج والے اور مسافر لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3399) (منکر)» ‏‏‏‏ (اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر المسافر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
طالب بن حبيب ضعيف ضعفه البخاري والجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: «اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار» اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ۱؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی ۲؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر یوں کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں آپ کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا (یعنی آپ اور معاذ کیا دعا مانگتے ہیں؟ آواز تو سنتا ہوں، لیکن واضح الفاظ سمجھ میں نہیں آتے)۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان (جنت اور دوزخ) کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ (یعنی جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، مسند احمد 3/474، (تحفة الأشراف: 15565)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 26 (910) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «دندنہ» کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت: «حولها» میں «ها» کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (910)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (725) والحديث الآتي (الأصل: 793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى:" كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟ قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا".
جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟، اس نے کہا: میں (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 793]
عبید اللہ بن مقسم، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا قصہ ذکر کیا، اور بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان سے فرمایا: بھتیجے! جب نماز پڑھتے ہو تو کیسے کرتے ہو؟ (یعنی کیا پڑھتے ہو؟) اس نے کہا: فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ سے «أَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ» جنت مانگتا ہوں اور آگ سے پناہ چاہتا ہوں، اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی گنگناہٹ کیا ہے اور نہ معاذ رضی اللہ عنہ کے متعلق معلوم ہے کہ ان کی گنگناہٹ کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور معاذ ان ہی کے گرد گنگناتے ہیں۔ یا اس کی مانند کچھ فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/302) وانظر الحديث السابق (599)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کر لے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 794]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں، اور جب اپنی اکیلا نماز پڑھے، تو جتنی چاہے لمبی کر لے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 62 (703)، سنن النسائی/الإمامة 35 (824)، (تحفة الأشراف: 13815)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 37 (467)، سنن الترمذی/الصلاة 63 (236)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 4 (13)، مسند احمد (2 /256، 271، 317، 393، 486، 502، 537) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (703)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 795]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، بڑی عمر کے اور کام کاج والے ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13304، 15288) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (794)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں