صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
31. فصل في الأشربة - ذكر البيان بأن مدمن الخمر قد يلقى الله جل وعلا في القيامة بإثم عابد الوثن-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ مدمن شراب قیامت میں خداوند کے سامنے گناہگار وثنی کی مانند آئے گا
حدیث نمبر: 5347
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ، لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ مُسْتَحِلاً لَشُرْبِهِ، لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ، لاسْتِوَائِهِمَا فِي حَالَةِ الْكُفْرِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے وہ بتوں کے عبادت گار کے طور پر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اور اس کے پینے کو حلال سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے جیسے وہ بتوں کا عبادت گزار ہو کیونکہ یہ دونوں صورتیں کفر کی حالت ہونے میں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5347]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اور اس کے پینے کو حلال سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے جیسے وہ بتوں کا عبادت گزار ہو کیونکہ یہ دونوں صورتیں کفر کی حالت ہونے میں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5347]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5323»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (677).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف