صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. ذكر ما يجب على المرء أن يبتدئ بحمد الله جل وعلا عند سؤاله ربه جل وعلا ما ذكرناه-
- اس باب میں ذکر ہے کہ جب بندہ اپنے رب سے کچھ مانگے تو اسے اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5421
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا، فَلَكَ الْحَمْدُ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے کا نام لے کر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تو نے مجھے یہ (چادر یا قمیص) پہنائی ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5420، 5421، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7501، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10068، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4020، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1767، 1767 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11420» «رقم طبعة با وزير 5397»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات