🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. ذكر الزجر عن أن تنظر المرأة إلى الرجل الذي لا يبصر-
- باب اس زجر کا کہ عورت اس مرد کو نہ دیکھے جو نابینا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5575
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَمَيْمُونَةُ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَسْتَأْذِنُ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَقَالَ:" قُومَا، فَقُلْنَا: إِنَّهُ مَكْفُوفٌ وَلا يُبْصِرُنَا، قَالَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا لا تُبْصِرَانِهِ؟" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟" لَفْظَةُ اسْتِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ نَظَرِهِمَا إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي كُفَّ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النِّسَاءَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِنَّ النَّظَرُ إِلَى الرِّجَالِ، إِلا أَنْ يَكُونُوا لَهُنَّ بِمَحْرَمٍ، سَوَاءٌ كَانُوا مَكْفُوفَيْنِ أَوْ بُصَرَاءَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں۔ اسی دوران ابن ام مکتوم آئے۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اٹھ جاؤ ہم نے عرض کی: یہ تو نابینا ہے یہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں نابینا ہو کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھو گی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کیا تم نابینا ہو۔ یہاں پر لفظی طور پر خبر معلوم کی جا رہی ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس بات کی ممانعت کرنا ہے وہ دونوں خواتین اس مرد کی طرف دیکھیں جو نابینا ہے اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے خواتین کے لئے بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے البتہ محرم مردوں کا حکم مختلف ہے اور یہ حرمت برابر ہے خواہ وہ لوگ نابینا ہوں یا بینا ہوں۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5575]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5575، 5576، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9197، 9198، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4112، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13655، 13656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27180» «رقم طبعة با وزير 5548/*»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق على الموارد» (1457). قال الناشر: هذا الحديث - بتبويبه - ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں