صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر الإخبار عما يجب على النساء من غض البصر ولزوم البيوت لئلا يقع بصرهن على أحد من الرجال-
- باب اس خبر کا کہ عورتوں پر نگاہ نیچی رکھنے اور گھروں میں رہنے کی ذمہ داری ہے تاکہ ان کی نظر مردوں پر نہ پڑے۔
حدیث نمبر: 5576
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَبْهَانَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، قَالَتُ: فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ بِالْحِجَابِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقَالَتَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى، فَمَا يُبْصِرُنَا وَلا يَعْرِفُنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟!" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ وہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھیں ہوئی تھیں۔ اس دوران ابن ام مکتوم آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس سے پردہ کرو ان دونوں نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا یہ نابینا نہیں ہے یہ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکیں گے اور ہمیں پہچان بھی نہیں سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھ رہی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5576]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5575، 5576، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9197، 9198، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4112، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13655، 13656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27180» «رقم طبعة با وزير 5549»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (3116).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5577
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى عَنِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْهَا عَطَاءً ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْهَا عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ اغْتَسِلُ أَنَا وَحِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِنَاءِ الْوَاحِدِ، تَخْتَلِفُ فِيهِ أَكُفُّنَا، وَأَشَارَتْ إِلَى إِنَاءٍ فِي الْبَيْتِ قَدْرَ سِتَّةِ أَقْسَاطٍ" .
عتبہ بن ابوحکیم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سلیمان بن موسیٰ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کی شرم گاہ کی طرف دیکھتا ہے تو سلیمان نے بتایا میں نے اس بارے میں عطا سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے بتایا میں نے اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا میں اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے جس میں ہماری ہتھیلیاں آگے پیچھے داخل ہوتی تھیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر میں موجود ایک برتن کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بتائی جس کی مقدار 8 قسط (جتنی تھی)
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5577]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر میں موجود ایک برتن کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بتائی جس کی مقدار 8 قسط (جتنی تھی)
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5577]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 250، 261، 263، 272، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 319، 319، 321، ومالك فى (الموطأ) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 64، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 236، 238، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1108، 1111، 1192، 1193، 1194، 1195، 1201، 1202، 1262، 1264، 5577، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 605، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 72، وأبو داود فى (سننه) برقم: 77، 98، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1755، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 376،والدارقطني فى (سننه) برقم: 135، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24648» «رقم طبعة با وزير 5550»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر (1108). تنبيه!! رقم (1108) = (1111) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن