سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
156. باب مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدے کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 885
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ" فَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا".
سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: «سبحان الله وبحمده» کہہ سکیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 885]
جناب سعید جریری، سعدی سے وہ اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نماز میں بڑے غور سے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں اتنی دیر رکتے تھے کہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» تین بار کہہ لیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/148، 161، 176، 253، 271، 5/6) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السعدي لا يعرف ولم يسم (تقريب التهذيب: 8499) وقال المنذري فيه : ’’ مجهول ‘‘
وأخرج ابن أبي شيبة (250/1) بإسناد صحيح عن الحسن البصري قال :’’ التام من السجود قدر سبع تسبيحات والمجزئ ثلاث ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44
إسناده ضعيف
السعدي لا يعرف ولم يسم (تقريب التهذيب: 8499) وقال المنذري فيه : ’’ مجهول ‘‘
وأخرج ابن أبي شيبة (250/1) بإسناد صحيح عن الحسن البصري قال :’’ التام من السجود قدر سبع تسبيحات والمجزئ ثلاث ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44
حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ، عَوْنٌ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار: «سبحان ربي العظيم» کہے، اور یہ کم سے کم مقدار ہے، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار: «سبحان ربي الأعلى» کہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 886]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو تین دفعہ کہے «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» اور یہ کم سے کم تعداد ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو کہے «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» تین بار۔ اور یہ کم سے کم تعداد ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے۔ عون نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 82 (261)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (890)، (تحفة الأشراف: 9530) (ضعیف)» (مؤلف نے سبب بیان کر دیا ہے، یعنی عون کی ملاقات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وإذا سجد فليقل سبحان ربي الأعلى ثلاثا وذلك أدناه
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (261) ابن ماجه (890)
إسحاق بن يزيد مجهول(تق : 393)
والسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
إسناده ضعيف
ترمذي (261) ابن ماجه (890)
إسحاق بن يزيد مجهول(تق : 393)
والسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَانْتَهَى إِلَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص سورۃ «والتين والزيتون» پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت «والتين والزيتون» پر پہنچے تو: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» کہے، اور جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» پڑھے اور «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» پر پہنچے تو «بلى» کہے، اور جو سورۃ «والمرسلات» پڑھے اور آیت «فبأى حديث بعده يؤمنون» پر پہنچے تو «آمنا بالله» کہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: (میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی)، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ (وہ نہ سنا سکے) تو اس اعرابی نے کہا: میرے بھتیجے! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 887]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سورۃ «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر میں ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة التين: 8] ”کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟“ پر پہنچے تو کہے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ”کیوں نہیں! اور میں اس کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔“ اور جو سورۃ القیامہ پڑھے اور اس کے آخر میں ﴿أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر سکے؟“ تو چاہیے کہ کہے «بَلَى» ”کیوں نہیں، وہ قادر ہے۔“ اور جو شخص سورۃ المرسلات پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المرسلات: 50] ”یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟“ تو چاہیے کہ کہے «آمَنَّا بِاللَّهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے۔““ اسمعیل کہتے ہیں کہ میں اس اعرابی کے پاس دوبارہ گیا تاکہ اس سے یہ حدیث دوبارہ سنوں اور دیکھوں کہیں وہ (بھولا تو نہیں) تو اس نے کہا: اے بھتیجے! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے اس حدیث کو یاد نہیں رکھا ہوگا؟ حالانکہ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں اور ہر حج میں، میں جس اونٹ پر سوار ہوتا رہا ہوں وہ سب مجھے یاد ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/التفسیر 83 (3347)، مسند احمد 2/249، (تحفة الأشراف: 1550) (ضعیف)» (اس کا راوی اعرابی مبہم شخص ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3347)
الأ عرابي مجهول وقال ابن حجر في التقريب (8504) : ’’ لا يعرف ‘‘ وللحديث طرق كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
إسناده ضعيف
ترمذي (3347)
الأ عرابي مجهول وقال ابن حجر في التقريب (8504) : ’’ لا يعرف ‘‘ وللحديث طرق كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
حدیث نمبر: 888
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ، قَالَ:سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ:" فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قُلْتُ لَهُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ، قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ: مَابُوسٌ، وَأَمَّا حِفْظِي: فَمَانُوسٌ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. قَالَ أَحْمَدُ:عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: (وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے (اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی: «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 888]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ راوی کا نام مانوس (نون کے ساتھ) ہے یا مابوس (باء کے ساتھ)؟ تو انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے مابوس (باء کے ساتھ) بیان کیا ہے، مگر مجھے مانوس (نون کے ساتھ) یاد ہے“ اور یہ ابن رافع کے لفظ ہیں۔ احمد نے اپنی روایت میں عنعنہ کا استعمال کرتے ہوئے «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» کہا (جبکہ ابن رافع نے سماع کی تصریح کی ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 76 (1136)، (تحفة الأشراف: 859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/162-163) (ضعیف)» (اس کی سند میں وہب بن مانوس مجہول الحال راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (883)
أخرجه النسائي (1136 وسنده حسن) وھب بن مانوس وثقه ابن حبان والذھبي وھو حسن الحديث ولا عبرة بمن جھله
مشكوة المصابيح (883)
أخرجه النسائي (1136 وسنده حسن) وھب بن مانوس وثقه ابن حبان والذھبي وھو حسن الحديث ولا عبرة بمن جھله