🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

155. باب الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دعا مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ" فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، فَقَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح (کانے) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 880]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» اے اللہ! میں عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، مجھے مسیح دجال کے فتنے سے محفوظ رکھ، مجھے زندگی اور موت کے فتنوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! مجھے گناہ کے کاموں اور قرضے سے بچائے رکھ۔ کسی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرضے سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب قرضہ لے لیتا ہے، تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 149 (832)، الاستقراض 10 (2397)، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، سنن النسائی/السہو 64 (1310)، الاستعاذة 9 (5456)، (تحفة الأشراف: 16463)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 77 (3495)، مسند احمد (6/88، 89، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (832) صحيح مسلم (589)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ تَطَوُّعٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ".
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں ایک نفل نماز پڑھی تو میں نے آپ کو «أعوذ بالله من النار ويل لأهل النار» میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جہنم والوں کے لیے خرابی ہے کہتے سنا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 881]
جناب عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ کہہ رہے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ» آگ سے اللہ کی پناہ، ہلاکت ہے دوزخیوں کے لیے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 179(1352)، (تحفة الأشراف: 12153)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/347) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں محمد بن أبی لیلی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1352)
ابن أبي ليلي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایک دیہاتی نے نماز میں کہا: «اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس دیہاتی سے فرمایا: تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 882]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے تو ایک بدوی نے نماز میں یوں دعا کی «اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ فرما۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس بدوی سے کہا: تو نے وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ، اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (380)، (تحفة الأشراف: 15343) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (1217 وسنده صحيح) ورواه البخاري (6010 نحوه) وانظر الحديث السابق (380)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى". قَالَ أَبُو دَاوُد: خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 883]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] کی تلاوت کرتے تو (جواباً) فرماتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند و بالا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی ہے۔ ابو وکیع اور شعبہ نے اسے بواسطہ «أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» موقوفاً بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5619)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وثبت نحوه موقوفًا عن أبي موسي الأشعري وابن الزبير و عمران بن حصين رضي اللّٰه عنهم بأسانيد صحيحة،انظر مصنف ابن أبي شيبة (2/ 508،509)
وروي ابن الضريس في فضائل القرآن (13) عن ابن عباس أنه قال : ’’ إذا قرأت ﴿سبح اسم ربك الاعلٰي ﴾ و إذا قرأت ﴿اَليس ذلك بقادر علٰي اَن يحيي الموتٰي ﴾ فقل : سبحانك وبلٰي ‘‘ و سنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُل يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 قَالَ:" سُبْحَانَكَ فَبَلَى". فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ: يُعْجِبُنِي فِي الْفَرِيضَةِ أَنْ يَدْعُوَ بِمَا فِي الْقُرْآنِ.
موسی بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» (سورة القيامة: ۴۰) پر پہنچتے تو «سبحانك» کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے کہا: مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 884]
جناب موسیٰ بن ابی عائشہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ وہ گھر کی چھت پر نماز پڑھاتے تھے، تو جب وہ ﴿أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى﴾ [سورة القيامة: 40] کیا اللہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے؟ پڑھتے تو (جواب میں) کہتے: «سُبْحَانَكَ فَبَلَى» اے اللہ! تو پاک ہے، تو یقیناً قدرت رکھتا ہے۔ لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ کا کہنا ہے: مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ فرض نمازوں میں قرآنی دعائیں کی جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15680) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة القيامة: (۴۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أخرجه ابن أبي حاتم في تفسيره (10/ 3389 ح19073)’’عن شعبة عن موسي عن آخر عن آخر‘‘ فالواسطة مجهولة بين التابعي والصحابي فالسند معلول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں