صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
178. باب اللعن-
لعنت کرنے کا بیان -
حدیث نمبر: 5740
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَامْرَأَةٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهَا، فَضَجرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَتَاعَكُمْ عَنْهَا، وَأَرْسِلُوهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ"، قَالَ: فَفَعَلُوا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَمُّ أَبِي قِلابَةَ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو الْمُهَلَّبِ، وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَتِهِ، فَقَالَ: أَبُو الْمُهَاجِرِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے ایک خاتون اپنی اونٹنی پر سوار تھی اس خاتون نے اس اونٹنی کو جھڑکتے ہوئے اس پر لعنت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنا سامان اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ایسا ہی کیا اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نامی راوی کے چچا عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہیں جن کی کنیت ابومہلب ہے امام اوزاعی کو ان کی کنیت کے بارے میں وہم ہوا تو انہوں نے یہ کہا: کہ ان کی کنیت ابومہاجر ہے اس کی وجہ یہ ہے سوار کو بھی کبھی کبھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5740]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نامی راوی کے چچا عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہیں جن کی کنیت ابومہلب ہے امام اوزاعی کو ان کی کنیت کے بارے میں وہم ہوا تو انہوں نے یہ کہا: کہ ان کی کنیت ابومہاجر ہے اس کی وجہ یہ ہے سوار کو بھی کبھی کبھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5740]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2595، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5740، 5741، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8765، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2561، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10441، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20175» «رقم طبعة با وزير 5710»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2308): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح