🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. باب اللعن - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبر عمران بن الحصين بأن لعنة هذه اللاعنة قد استجيب لها في ناقتها-
لعنت کرنے کا بیان - ذکر خبر جو ہمارے عمران بن الحصین کی خبر کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس لعن کرنے والی کی لعنت اس کے اونٹنی کے بارے میں قبول ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5743
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً، بَيْنَا هِيَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ رَاحِلَةٍ عَلَيْهَا مَتَاعُ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ، وأَتَى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمْرُ الْمُصْطَفَى بِتَسْيِيبِ الرَّاحِلَةِ الَّتِي لُعِنَتْ أَمْرٌ أُضْمِرَ فِيهِ سَبَبُهُ، وَهُوَ حَقِيقَةُ اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لِلاعِنِ، فَمَتَى عُلِمَ اسْتِجَابَةُ الدُّعَاءِ مِنْ لاعِنٍ مَا رَاحِلَةً لَهُ، أَمَرْنَاهُ بِتَسْيِيبِهَا، وَلا سَبِيلَ إِلَى عِلْمِ هَذَا لانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، فَلا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ هَذَا الْفِعْلِ لأَحَدٍ أَبَدًا.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا وہ دو پہاڑوں کے درمیان میں سے گزر رہی تھی پہاڑ کا راستہ تنگ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ پر تشریف لائے جب اس لڑکی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو یہ کہنے لگی اٹھو اے اللہ اس پر لعنت کر، اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے لیکن وحی کے منقطع ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا اس لیے اب کسی کے لیے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2596، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5743، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20080» «رقم طبعة با وزير 5713»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2184).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں