صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
202. باب الغيبة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الوقيعة في المسلمين وإن كان تشميره في الطاعات كثيرا-
غیبت کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی عیب جوئی سے باز رہے خواہ وہ اطاعت میں کتنا ہی بڑھا ہوا ہو
حدیث نمبر: 5764
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ كَثْرَةِ صَلاتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي بِلِسَانِهَا، قَالَ: " فِي النَّارِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ قِلَّةِ صَلاتِهَا وَصِيَامِهَا، وَأَنَّهَا تَصَدَّقَتْ بِأَثْوَارِ أَقِطٍ، غَيْرَ أَنَّهَا لا تُؤْذِي جِيرَانَهَا، قَالَ:" هِيَ فِي الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! فلاں عورت اس طرح کی ہے اس نے اس عورت کی بکثرت نفل نمازوں کا ذکر کیا اور یہ کہا: کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے (دوسروں) کو اذیت پہنچاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جہنم میں جائے گی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فلاں عورت ایسی ہے پھر اس نے اس عورت کی نمازوں اور روزوں کی قلت کا ذکر کیا اور یہ بتایا: وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5764]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5764، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7397، 7398، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9806، والبزار فى (مسنده) برقم: 9713» «رقم طبعة با وزير 5734»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (190).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح