صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
276. باب الأسماء والكنى - ذكر الإخبار عن إرادته صلى الله عليه وسلم الزجر عن أن يسمي المرء بأسامي معلومة-
ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر خبر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص ناموں سے پکارنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا
حدیث نمبر: 5839
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةً، وَنَافِعًا، وَأَفْلَحَ" ، فَلا أَدْرِي قَالَ: أَفْلَحُ أَمْ لا؟ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ تَرَكَهُ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہ گیا، تو میں اس بات سے منع کر دوں گا کہ کسی کا نام برکت یا نافع یا افلح رکھا جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے الفاظ میں لفظ افلح ہے یا نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر انہوں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5839]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2138، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5839، 5840، 5842، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7817، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19373، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14830» «رقم طبعة با وزير 5809»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3271).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي