🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

275. باب الأسماء والكنى - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم وانظروا أن لا تزيدوا عليه أراد به أن لا تزيدوا على هذا العدد الذي هو الأربع-
ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دیکھو کہ اس سے زیادہ نہ کرو" سے مراد اس تعداد سے زیادہ نہ کرنا جو چار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5838
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُزْبُرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَمِّيَنَّ غُلامَكَ رَبَاحًا، وَلا نَجِيحًا، وَلا يَسَارًا، وَلا أَفْلَحَ، إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعٌ، فَلا تَزِيدُوا عَلَيْهِ" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنْ تَسْمِيَةِ الْغِلْمَانِ بِالأَسَامِي الأَرْبَعِ الَّتِي ذُكِرَتْ فِي الْخَبَرِ هِيَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانَ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ قَرِيبًا، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الرَّقِيقَ بِهَذِهِ الأَسَامِيَ، وَيَرَوْنَ الرِّبْحَ مِنْ رَبَاحٍ، وَالنُّجْحَ مِنْ نَجَاحٍ، وَالْيُسْرَ مِنْ يَسَارٍ، وَفَلاحٍا مِنْ أَفْلَحَ، لا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى جَلَّ وَعَلا، فَمِنْ أَجْلِ هَذَا نَهَى عَمَّا نَهَى عَنْهُ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے غلام کا نام رباح یا نجیح یا یسار یا افلح نہ رکھو۔ (شاید راوی کہتے ہیں:) یہ چار نام ہیں تم ان میں کوئی اضافہ نہ کرنا۔ شیخ ابوحاتم بیان کرتے ہیں: اس بات کا احتمال موجود ہے اس روایت میں جو چار نام ذکر کیے گئے ہیں غلاموں کے وہ نام رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہو زمانہ شرک کے قریب تھا وہ اپنے غلاموں کے یہ نام رکھا کرتے تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ رباح نام کے ساتھ فائدہ ہوتا ہے نجاح نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یسار نام کے ساتھ خوشحالی ملتی ہے اور فلاح کے نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتی تو اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ نام رکھنے سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5838]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2136، 2137، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 835، 839، 1811، 5836، 5837، 5838، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4958، 4959، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2836، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2738، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3730، 3811، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19371، 19372، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20395» «رقم طبعة با وزير 5808»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں