صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
297. باب الصور والمصورين - ذكر ما يستحب للمرء ترك الدخول في البيوت التي فيها ستور عليها تماثيل-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ ان گھروں میں داخل ہونے سے باز رہے جن کے پردوں پر تماثیل ہوں
حدیث نمبر: 5860
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ" ، قَالَتْ: فَقَطَّعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیے۔
حاضرین میں سے ایک صاحب نے (حدیث بیان کرنے والے محدث) سے کہا: آپ نے ابومحمد کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تکیوں کے ساتھ ٹیک بھی لگائی تھی تو قاسم کے صاحبزادے نے کہا: جی نہیں تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے قاسم کے صاحبزادے کی مراد قاسم بن محمد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5860]
حاضرین میں سے ایک صاحب نے (حدیث بیان کرنے والے محدث) سے کہا: آپ نے ابومحمد کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تکیوں کے ساتھ ٹیک بھی لگائی تھی تو قاسم کے صاحبزادے نے کہا: جی نہیں تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے قاسم کے صاحبزادے کی مراد قاسم بن محمد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5860]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5830»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (119): ق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم