سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. باب مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے بعد آدمی کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 983]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے چار چیزوں کی پناہ طلب کرے۔ یعنی عذاب جہنم، عذاب قبر، زندگی و موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن النسائی/السھو 64 (1311)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 26(909)، (تحفة الأشراف: 14587)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 87 (1377)، مسند احمد (2/237)، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (588)
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» یعنی ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 984]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3494)، سنن النسائی/الجنائز 115 (2065)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3840)، (تحفة الأشراف: 5721)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8(33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311)، ویأتي برقم (1542) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
ورواه مسلم (590) من حديث طاوس به وانظر الحديث الآتي (1543)
ورواه مسلم (590) من حديث طاوس به وانظر الحديث الآتي (1543)
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، قَالَ: فَقَالَ:" قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ" ثَلَاثًا.
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے“ یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: ”اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 985]
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی نماز مکمل کر لی تھی اور وہ تشہد پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ ﴿الْأَحَدُ الصَّمَدُ﴾ [سورة الإخلاص: 1-2] ، الَّذِي ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ﴾ [سورة الإخلاص: 3] ، ﴿وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 4] ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» (دعا کا ترجمہ ہے) ”میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ! اکیلے، بے نیاز، نہ جس نے جنا نہ جنا گیا، اور کوئی اس کے برابر نہیں! یہ کہ میرے گناہ معاف فرما دے۔ بے شک تو بہت ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا۔“ تین بار فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السھو 58 (1302)، (تحفة الأشراف: 11218)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (1302 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (724 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (1302 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (724 وسنده صحيح)