سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
185. باب الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ، فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود و سلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وآل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» یعنی ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ۱؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ۲؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 976]
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا یا دیگر صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود اور سلام بھیجیں، سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا، تو درود کیسے پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہا کرو! «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما، جیسے کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر رحمتیں نازل فرمائیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی برکتیں نازل فرما جیسے کہ تو نے آلِ ابراہیم علیہ السلام پر اپنی برکتیں نازل فرمائیں۔ بے شک تو تعریف کیا ہوا، بڑی شان والا ہے۔“” [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، وتفسیر الأحزاب 10 (4797)، والدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن النسائی/السھو 51 (1288)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 25 (904)، (تحفة الأشراف: 11113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 244)، سنن الدارمی/الصلاة 85 (1381) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کی وضاحت ابوالعالیہ نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ستائش اور تعظیم کرنا اور فرشتوں وغیرہ کے درود بھیجنے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے اس مدح و ستائش اور تعظیم میں طلب زیادتی ہے، ابوالعالیہ کے اس قول کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کرنے کے بعد اس مشہور قول کی تردید کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے درود کا معنیٰ رحمت بتایا گیا ہے۔
۲؎: برکت کے معنیٰ بالیدگی و بڑھوتری کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کو عطا کی ہیں وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما اور انہیں قائم و دائم رکھ اور انہیں بڑھا کر کئی گنا کر دے۔
۲؎: برکت کے معنیٰ بالیدگی و بڑھوتری کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کو عطا کی ہیں وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما اور انہیں قائم و دائم رکھ اور انہیں بڑھا کر کئی گنا کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6357) صحيح مسلم (406)
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ".
اس سند سے بھی شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: «صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائی“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 977]
جناب شعبہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی اور کہا: ” «صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ» “ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11113) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6357) صحيح مسلم (406)
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، كَمَا رَوَاهُ مِسْعَرٌ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَسَاقَ مِثْلَهُ".
اس طریق سے بھی حکم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنی برکت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: «كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد» اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 978]
حکم نے اپنی سند سے اسے روایت کیا اور کہا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے کہ مسعر نے اسے روایت کیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کہا ہے: «كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ» اور سابقہ روایت کے مثل بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 976، (تحفة الأشراف: 11113) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6357) صحيح مسلم (406)
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
عمرو بن سلیم زرقی انصاری کہتے ہیں کہ مجھے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی، اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 979]
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ (درود) کیسے پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما، جیسا کہ تو نے آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما، جیسا کہ تو نے آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، یقیناً تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔“” [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، والدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن النسائی/السھو 55 (1295)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 25 (905)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 22 (66)، مسند احمد (5/424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3369) صحيح مسلم (407)
حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَخْبَرَهُ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا"، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ زَادَ فِي آخِرِهِ" فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کہو“۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں «في العالمين إنك حميد مجيد» کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 980]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر صلاۃ پڑھیں، تو یہ کس طرح پڑھیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے (اور دیر تک خاموش رہے) حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ کاش وہ سوال ہی نہ کیا ہوتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو۔“ اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور اس کے آخر میں «إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» زیادہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 17 (405)، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (3220)، سنن النسائی/السہو 49 (1286)، (تحفة الأشراف: 10007)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 22 (67)، مسند احمد (4/118، 119، 5/ 274)، سنن الدارمی/الصلاة 85 (1382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (406)
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ".
اس سند سے بھی عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہو «اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد» ”اے اللہ! نبی امی محمد اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 981]
محمد بن عبداللہ بن زید نے سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کی کہ: ”کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ» “ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10007) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الحاكم (1/268 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (980)
أخرجه الحاكم (1/268 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (980)
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى، إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کر دیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے: «اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» “۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 982]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا جی چاہتا ہے کہ اسے اس کی میزان خوب بھری ہوئی ملے تو چاہیے کہ جب ہم اہل بیت پر صلاۃ (درود) پڑھے تو یوں کہا کرے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14645) (ضعیف)» (اس کے راوی حبان الکلابی میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حبان بن يسار: ضعيف ضعفه أبو حاتم وغيره،واختلط بآخرة،وفي حديثه اختلاف أيضًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
إسناده ضعيف
حبان بن يسار: ضعيف ضعفه أبو حاتم وغيره،واختلط بآخرة،وفي حديثه اختلاف أيضًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47