صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء في الفتن - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن آخر الزمان على العموم يكون شرا من أوله-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ آخر زمانہ عمومی طور پر ابتدا سے بدتر ہوگا
حدیث نمبر: 5952
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرَّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ، فَقَالَ: " اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے حجاج کی شکایت ان سے کی، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تم پر اب جو بھی دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو بھی زمانہ آئے گا، تو اس کے بعد والا زمانہ اس سے زیادہ برا ہو گا، یہاں تک کہ تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، یہ بات میں نے تمہارے نبی کی زبانی سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5952]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5921»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1218): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح