صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب القصاص-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان -
حدیث نمبر: 5990
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟!" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيِّ ابْنُ سَلُولٍ: قَدْ فَعَلُوهَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" دَعْهُ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ" يُرِيدُ أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ: فَإِنَّهَا ذَمِيمَةٌ، وَمَا يُشْبِهُهَا.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصار (میری مدد کیلئے آ جاؤ) مہاجر نے کہا: اے مہاجرین (میری مدد کیلئے آ جاؤ) راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سنی تو فرمایا یہ کیا زمانہ جاہلیت کے بلانے کا طریقہ ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ بدبودار چیز ہے۔ اس پر (منافقین کے سردار) عبداللہ بن ابی نے کہا: ان لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب ہم مدینہ جائیں گے، تو وہاں سے عزت دار لوگ ذلیل لوگوں کو باہر نکال دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو! ورنہ لوگ یہ کہیں گے محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”یہ بدبودار چیز ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے اس طرح کی صورت حال میں قصاص نہیں ہوتا اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا ہے: یہ قابل مذمت چیز ہے، اس طرح کے دیگر الفاظ (کا یہی مفہوم ہو گا) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5990]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”یہ بدبودار چیز ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے اس طرح کی صورت حال میں قصاص نہیں ہوتا اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا ہے: یہ قابل مذمت چیز ہے، اس طرح کے دیگر الفاظ (کا یہی مفہوم ہو گا) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5990]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5958»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3155): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين