🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. باب القصاص - ذكر نفي القصاص في القتل وإثبات التوارث بين أهل ملتين-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ قتل میں قصاص ہے اور دو ملتوں کے درمیان وراثت کا ثبوت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5996
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ وَبِقَرْيَةِ سِنْجَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْهَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَتْ خُزَاعَةُ حُلَفَاءٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو بَكْرٍ، رَهْطٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ حُلَفَاءً لأَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَكَانَتْ بَيْنَهُمْ مُوَادَعَةٌ أَيَّامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَغَارَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى خُزَاعَةَ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، فَبَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِدُّونَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمِدًّا لَهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ قُدَيْدًا ثُمَّ أَفْطَرَ، وَقَالَ: " لِيَصُمِ النَّاسُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُوا، فَمَنْ صَامَ أَجْزَأَ عَنْهُ صَوْمُهُ، وَمَنْ أَفْطَرَ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ" . فَفَتَحَ اللَّهُ مَكَّةَ، فَلَمَّا دَخَلَهَا أَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: " كُفُّوا السِّلاحَ، إِلا خُزَاعَةَ عَنْ بَكْرٍ"، حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قُتِلَ رَجُلٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْحَرَمَ حَرَامٌ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ، لَمْ يَحِلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَلا يَحِلُّ لِمَنْ بَعْدِي، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ لِي إِلا سَاعَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُشْهِرَ فِيهِ سِلاحًا، وَإِنَّهُ لا يَخْتَلِي خَلاهُ، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهُ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلا الإِذْخَرَ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلا الإِذْخَرَ" . " وَإِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ ثَلاثَةٌ: مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ لِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ" . فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلانٍ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ لِي، فَأْمُرْ بِوَلَدِي، فَلْيُرَدَّ إِلَيَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ بِوَلَدِكَ، لا يَجُوزُ هَذَا فِي الإِسْلامِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ إِلا أَنْ تَقُومَ بَيِّنَةٌ، الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، وَبِفِي الْعَاهِرِ الأَثْلِبُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا الأَثْلِبُ؟ قَالَ:" الْحَجَرُ، فَمَنْ عَهَرَ بِامْرَأَةٍ لا يَمْلِكُهَا، أَوْ بِامْرَأَةِ قَوْمٍ آخَرِينَ فَوَلَدَتْ، فَلَيْسَ بِوَلَدِهِ، لا يَرِثُ وَلا يُورَثُ" . " وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَوَّلُهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" . " وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ" . " وَلا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلا عَلَى خَالَتِهَا، وَلا تُسَافِرُ ثَلاثًا مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ" . " وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: خزاعہ قبیلے کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف تھے جبکہ بنو کنانہ کا ایک گروہ بنو بکر، ابوسفیان (یعنی مشرکین مکہ) کے حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا، پھر بنو بکر نے اسی مدت کے درمیان خزاعہ قبیلے کے لوگوں پر حملہ کر دیا، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کیلئے پیغام بھجوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد کرنے کیلئے رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لینا چاہئے اور ترک بھی کر دینا چاہئے جو شخص روزہ رکھ لے گا اس کا روزہ درست ہو گا اور جو شخص نہیں رکھے گا اس پر قضاء کرنا لازم ہو گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کر دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی اور ارشاد فرمایا: اپنے ہتھیاروں کو روک لو، البتہ خزاعہ قبیلے کے لوگ بنو بکر (سے بدلہ لے سکتے ہیں) یہاں تک کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مزدلفہ میں ایک شخص قتل ہو گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حرم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت قابل احترام ہے مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی سی دیر کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا ہے کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں ہتھیار نکال کر چلے، یہاں کے کانٹے کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اذخر (کی اجازت دیدیجئے) کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبرستان میں استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر کا حکم مختلف ہے اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نافرمان تین لوگ ہیں وہ شخص جو اللہ کے حرم میں کسی کو قتل کرے یا جو شخص اپنے قاتل کے علاوہ (یعنی قصاص کے بدلے کے علاوہ) کسی کو قتل کرے یا جو شخص زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کس کو قتل کرے۔
ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے بنو فلاں کی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی، تو اس کے ہاں بچہ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بچے کے بارے میں حکم دیجئے کہ وہ مجھے دیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہاری اولاد (شمار نہیں ہو گا) کیونکہ اسلام میں یہ بات جائز نہیں ہے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو وہ قسم اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے ماسوائے اس صورت کے کہ ثبوت کے ذریعے ثابت ہو جائے بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے۔ ایک صاحب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اثلب سے کیا مراد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پتھر، جو شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو یا کسی دوسری قوم کی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے، تو وہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہو گا نہ وہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی اسے اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اہل ایمان اپنے علاوہ سب لوگوں کے لیے ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کی جانیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں ان کے آگے کا کوئی فرد اگر پناہ دیدیتا ہے، تو سب سے پیچھے والا بھی اسے پورا کرے گا کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے دوران (قتل نہیں کیا جائے گا) دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر، یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا اور کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن سے زیادہ کا سفر نہیں کرے گی اور تم لوگ فجر کے بعد اس وقت تک (کوئی نفل نماز) ادا نہیں کرو گے جب تک سورج نکل نہیں آتا اور عصر کے بعد اس وقت تک ادا نہیں کرو گے جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5996]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5964»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں