صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز اتخاذ النشرة للأعلاء-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ بیماریوں کے لیے نشرہ لینا جائز نہیں
حدیث نمبر: 6069
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، فقال أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بُطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ" .
یوسف بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی دعا کی) ”اے لوگوں کے پروردگار! تو ثابت بن قیس بن شماس سے تکلیف کو دور کر دے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحان کی مٹی لی اسے ایسے پیالے میں ڈالا جس میں پانی موجود تھا اور وہ پانی ان پر چھڑک دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 6069]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6037»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الصحيحة» تحت الحديث (1418).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null