صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر الزجر عن أن يكوي المرء شيئا من بدنه لعلة تحدث-
- ذکر منع کہ انسان اپنے جسم کے کسی حصے کو بیماری کی وجہ سے داغ لگائے
حدیث نمبر: 6081
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَا وَلا أَنْجَحْنَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (علاج کے طور پر) داغ لگوانے سے منع کیا تھا ہم نے داغ لگوائے، نہ تو ہم نے فلاح پائی اور نہ کامیابی حاصل کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6049»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «التعليق على ابن ماجه» (2/ 252).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6082
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " جَاءَ نَاسٌ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلاثًا: فَسَكَتَ، وَكَرِهَ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اسے داغ لگوانا چاہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے انہوں نے تین مرتبہ اس بارے میں دریافت کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6050»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: إسناده صحيحٌ مُتَّصل بتصريح أبي إسحاق - وهو السبيعي - بسماعه لأبي الأحوص. كما أَمِنَّا اختلاطه برواية شعبه عنه. وهكذا رواه الطيالسي في «مسنده» (39/ 302): حدثنا شعبة ... به.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم