صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. ذكر الخبر المدحض قول من نفي جواز استعمال الرقى للمسلمين-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مسلمانوں کے لیے رقیت کا استعمال جائز نہیں
حدیث نمبر: 6095
أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ، أَنَّ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ لِي: يَا ابْنَ أَخِي، أَلا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: " بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الصَّوَابُ أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، لا سَعِيدٍ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے روایت کرتے ہیں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اے میرے بھتیجے کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے یہ پڑھا۔ ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں تمہیں دم کرتی ہوں اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء عطا کرے ہر اس بیماری سے جو تمہیں لاحق ہے۔ اے لوگوں کے پروردگار تکلیف کو دور کر دے شفاء عطا کر دے، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی شفاء عطا کرنے والا نہیں ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست یہ ہے کہ راوی کا نام اظہر بن سعد ہے اظہر بن سعید نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6095]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست یہ ہے کہ راوی کا نام اظہر بن سعد ہے اظہر بن سعید نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6095]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6063»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «الضعيفة» تحت الحديث (3357).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null