🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. ذكر الإباحة للمرء أخذ الأجرة المشترطة في البداية على الرقى-
- ذکر اجازت کہ انسان رقیت پر شروع میں طے شدہ اجرت لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6112
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ، فَاسْتَضَفْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، فَنَزَلُوا بِالْعَرَاءِ، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَرْقِي، قَالُوا: ارْقِ صَاحِبَنَا، قُلْتُ: لا، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، قَالُوا: فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكُمْ جُعْلا، قَالَ: فَجَعَلُوا لِي ثَلاثِينَ شَاةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ، وَأَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ حَتَّى بَرَأَ، فَأَخَذْنَا الشَّاءَ، فَقُلْنَا: نَأْخُذُهَا وَنَحْنُ لا نُحْسِنُ نَرْقِي؟ فَمَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ:" وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، شَيْءٌ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا، وَاضْرِبُوا لِيَّ مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا ہمارا گزر ایک بستی کے پاس سے ہوا ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا: تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا ہم لوگوں نے آبادی سے باہر ایک جگہ پڑاؤ کیا ان لوگوں کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا وہ لوگ ہمارے پاس آئے انہوں نے کہا: کیا آپ کے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو دم کرتا ہو میں نے کہا: جی ہاں میں دم کرتا ہوں ان لوگوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیجئے میں نے کہا: جی نہیں ہم نے تمہیں مہمان نوازی کیلئے کہا: تھا تم نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تھا ان لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اس کا معاوضہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ہمیں تیس (30) بکریاں دینے کا معاہدہ کیا میں اس شخص کے پاس آیا میں نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ شخص ٹھیک ہو گیا، تو ہم نے بکریاں حاصل کر لیں ہم نے سوچا کہ ہم نے بکریاں تو لے لی ہیں لیکن ہمیں باقاعدہ طور پر دم کرنا نہیں آتا اس لیے ہم ان بکریوں کو اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کرتے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کیسے پتہ چلا کہ سورہ فاتحہ کا دم بھی ہوتا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے یہ تو ایک چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6112]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6079»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1556).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6113
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سُلَيْمٌ لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَقَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا، وَسَقَوْهُ لَبَنًا، قَالَ: فَقُلْتُ لا تُحَرِّكُوهُ حَتَّى نَأْتِيَ نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ایک عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا ہے کیا تمہارے درمیان کوئی دم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ چلا گیا ہم اس کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ یہ اچھا دم کر لیتا ہے اس نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ان لوگوں نے ہمیں بکریاں دیں اور ہمیں دودھ بھی پلایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: تم لوگ انہیں حرکت نہ دو جب تک ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو جاتے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا سے کیسے پتہ چلا کہ اس سورت کا دم بھی ہوتا ہے تم لوگ ان کو تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 6113]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6080»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں