🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

211. باب فَضْلِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے سنے اور خاموش رہے تو اس کے جمعے سے جمعے تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جو (خطبے کے دوران میں) کنکریوں سے کھیلا اس نے لغو کام کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 8 (857)، سنن الترمذی/الجمعة 5 (498)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 62 (1025)، 81 (1090)، (تحفة الأشراف: 12504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (758)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ فَيَرْمُونَ النَّاسَ بِالتَّرَابِيثِ أَوِ الرَّبَائِثِ، وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ فَيَجْلِسُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ الرَّجُلَ مِنْ سَاعَةٍ وَالرَّجُلَ مِنْ سَاعَتَيْنِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ أَجْرٍ، فَإِنْ نَأَى وَجَلَسَ حَيْثُ لَا يَسْمَعُ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ أَجْرٍ، وَإِنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِصَاحِبِهِ صَهٍ فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ شَيْءٌ". ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: بِالرَّبَائِثِ، وَقَالَ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ.
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت (گھڑی) میں آیا، اور کون دوسری ساعت (گھڑی) میں آیا، یہاں تک کہ امام (خطبہ جمعہ کے لیے) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور (دوران خطبہ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن (دوران خطبہ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے «ربائث» ہے، نیز اس میں «مولى امرأته أم عثمان بن عطاء» ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1051]
مولیٰ ام عثمان (زوجہ عطاء) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مسجد کوفہ کے منبر پر سنا، وہ فرما رہے تھے: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر بازار جاتے ہیں اور لوگوں کو مختلف مشاغل میں الجھا دیتے ہیں اور انہیں جمعے سے تاخیر کرا دیتے ہیں۔ اور ملائکہ (فرشتے) آ کر مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور پہلی ساعت میں پہنچنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور دوسری ساعت میں آنے والوں کے نام لکھتے ہیں حتی کہ امام آ جاتا ہے۔ پس جب کوئی شخص کسی مناسب جگہ بیٹھ جاتا ہے کہ صحیح طور پر (خطبہ) سن سکے، امام کو دیکھ سکے، اور خاموش رہے اور لغو بات (یا کام) نہ کرے تو ایسے شخص کو دو حصے اجر ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور ہو اور ایسی جگہ بیٹھے کہ وہاں سے سن نہ سکتا ہو، لیکن خاموش رہے اور لغو بات (یا کام) نہ کرے تو اس کو ایک حصہ اجر ملتا ہے۔ اور اگر کسی ایسی جگہ بیٹھے جہاں سے وہ صحیح طور پر سن سکتا ہو اور امام کو دیکھ سکتا ہو لیکن کسی لغو کام میں مشغول رہے اور خاموش نہ رہے تو اس کو گناہ کا ایک حصہ ملتا ہے۔ اور اگر کسی نے اپنے ساتھی کو دورانِ جمعہ (خاموش کرانے کے لیے) «صَهْ» چپ رہو بھی کہہ دیا، تو اس نے لغو کام کیا۔ اور جس نے لغو کام کیا اس کے لیے اس جمعہ میں سے کچھ نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے آخر میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب فرماتے ہوئے سنا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا تو لفظ «رَبَائِثَ» ذکر کیا ہے، اسی طرح «مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ» ہی مولیٰ نے کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10340)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عطاء خراسانی ضعیف، اور مولی امرأتہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي امرأته: مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں