صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
67. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله لبث يوسف في السجن ما لبث-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر یوسف نے جیل میں اتنا وقت گزارا
حدیث نمبر: 6206
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ يُوسُفَ، لَوْلا الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ، مَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ، وَرَحِمَ اللَّهُ لُوطًا، إِِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، قَالَ: فَمَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا بَعْدَهُ، إِِلا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ کلمہ نہ ہوتا، جو انہوں نے کہا: تھا کہ ”تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کر دینا“ تو سیدنا یوسف علیہ السلام اتنا عرصہ قید خانے میں نہ رہتے جتنا عرصہ وہ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے انہوں نے ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی اس قوم سے کہا:۔ ”یا تو میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہو گی، یا پھر میں ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں بھیجا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6206]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3372، 3375، 3387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5776، 6206، 6207، 6208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2966، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4026، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8395» «رقم طبعة با وزير 6173»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر بهذا اللفظ: «لولا الكلمة ... ما لبث»، وما بعده صحيح؛ كما في الحديث التالي (1867). تنبيه!! رقم (1867) = (1870) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود بالرقم المشار إليه، ولكن انظر إلى الحديث الآتي والذي بعده. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن